Skip to main content
اگرمیرے قلم سے نکلی ہوئی ایک تحریر یا منہ سے نکلے ہوئے چندالفاظ  سے میرے کسی دوست یا دشمن کو تھوڑی سی بھی تسکین پہنچ گئی تو میرے لئے یہ دنیا کی عظیم نعمت ہوگی


Comments

Popular posts from this blog

Regret of Past پچھتاوا ۔ ہاۓ میراماضیPart-2

حضرت مکحول دمشقی  ؒفرماتےہیں کہ جب تم کسی کوروتے ہوۓ دیکھوتواس کے ساتھ رونے لگ پڑو یا کم ازکم رونے جیسی شکل بنالوکہتے ہیں میں نے ایک شخص کو روتے دیکھ کربدگمانی کی تھی کہ وہ رعایاکاری کررہاہے تواس کی سزامیں میں ایک سال تک خوف خداورعشق رسول میں نہ روسکا  مجھے ایک واقعہ یادآرہا ہے میرے ایک دوست  تھے فوت ہوگئے اللہ سب کی مغفرت فرماۓ کفن دفن کے بعد رسم ورواج کے مطابق تین چاردن تک تعزیت کیلئے آنے والے  لوگوں کا آناجانارہا  جب لوگوں کی آمدورفت ختم ہوگئ تو میں ان کی فیملی کے ساتھ بیٹھا تھا  کچھ عورتیں آپس میں مل کر حساب لگا رہی تھیں کہ فلاں تعزیت کیلئے آیااورفلاں نہیں آیا وغیرہ وغیرہ لیکن میں ایک دم اس وقت چونک گیا جب ایک عورت کا ذکرآیا کہ وہ فوتگی والے دن دھاڑیں مارمارکررورہی تھی تو دوسری نے کیاخوب جواب ارشادفرمایا ‘’ وہ ہمارے والے کو نہیں اپنوں کو رورہی تھی ‘’ یعنی جب ہم اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ایسے غم کے عالم میں بھی دوسروں پر ہماری نظرہوتی ہے دوسروں کے بارے میں ایسے وسوسے ہوتے ہیں تو پھر سوچ لیں کہ عام دنوں میں ہماراکیا حال ہوگا دل پاک نہیں تو پاک...

Regret of Past پچھتاوا ۔ ہاۓ میراماضیPart-3

غلطی سرزدہونا اتنابرا نہیں جتنا غلطی پرڈٹے رہنا  یہ غلطیاں اورگناہ ہی ہیں جو بعض اوقات انسان کو جنت کی راہ دکھلادیتے ہیں حضرت عمرٖؓکادورخلافت ہے وہ عمر جس کے نام سے شیطان بھی بھاگتاتھا گلی میں تشریف لارہے ہیں سامنے ایک شخص بغل میں شراب کی بوتل لئےآرہا ہے اب اس نےدیکھا کہ عمرؓ آرہےہیں شراب پکڑی جائے گی اورسزاوہ تو عمر ؓ نے موقع پرہی دے دینی ہے وہ شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوا اورعرض کی اے اللہ آج اگر تو مجھے عمرؓ سے بچالے تو میں شراب پینے سے توبہ کرتا ہوں اتنے میں عمرؓ بھی سر پرآن پہنچے  فرمایا تمھارے پاس یہ کیا ہے وہ شخص کہنے لگا سرکہ کی بوتل ہے عمر ؓ شراب کی بوتل ہاتھ میں پکڑتے ہیں چیک کرتے ہیں تو واقعی شراب کی بوتل سرکہ بن چکی ہوتی ہے جوں جوں سائنس نے ترقی کی انسان کا طرززندگی ترقی کرتا گیا خچروں اوراونٹوں پر سفرکرنے والاانسان آج ہوائی جہازمیں اڑرہا ہے  کنواں ،جھیل اورندی کے کنارے جھونپڑی لگا کر بسنے والا انسان آج بلند ترین عمارتوں میں  بس رہاہے  ہڈیوں پتھروں اورپتوں پر لکھنے والا انسان آج کمپیوٹر استعمال کررہا ہےاتنی ترقی کے باوجود بھی انسان اپنی مشکلا ...