اگرمیرے قلم سے نکلی ہوئی ایک تحریر یا
منہ سے نکلے ہوئے چندالفاظ سے میرے کسی
دوست یا دشمن کو تھوڑی سی بھی تسکین پہنچ گئی تو میرے لئے یہ دنیا کی عظیم نعمت
ہوگی
حضرت مکحول دمشقی ؒفرماتےہیں کہ جب تم کسی کوروتے ہوۓ دیکھوتواس کے ساتھ رونے لگ پڑو یا کم ازکم رونے جیسی شکل بنالوکہتے ہیں میں نے ایک شخص کو روتے دیکھ کربدگمانی کی تھی کہ وہ رعایاکاری کررہاہے تواس کی سزامیں میں ایک سال تک خوف خداورعشق رسول میں نہ روسکا مجھے ایک واقعہ یادآرہا ہے میرے ایک دوست تھے فوت ہوگئے اللہ سب کی مغفرت فرماۓ کفن دفن کے بعد رسم ورواج کے مطابق تین چاردن تک تعزیت کیلئے آنے والے لوگوں کا آناجانارہا جب لوگوں کی آمدورفت ختم ہوگئ تو میں ان کی فیملی کے ساتھ بیٹھا تھا کچھ عورتیں آپس میں مل کر حساب لگا رہی تھیں کہ فلاں تعزیت کیلئے آیااورفلاں نہیں آیا وغیرہ وغیرہ لیکن میں ایک دم اس وقت چونک گیا جب ایک عورت کا ذکرآیا کہ وہ فوتگی والے دن دھاڑیں مارمارکررورہی تھی تو دوسری نے کیاخوب جواب ارشادفرمایا ‘’ وہ ہمارے والے کو نہیں اپنوں کو رورہی تھی ‘’ یعنی جب ہم اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ایسے غم کے عالم میں بھی دوسروں پر ہماری نظرہوتی ہے دوسروں کے بارے میں ایسے وسوسے ہوتے ہیں تو پھر سوچ لیں کہ عام دنوں میں ہماراکیا حال ہوگا دل پاک نہیں تو پاک...
Comments
Post a Comment